Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
235 - 645
 لیکن اُس کے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان حِجاب(ـیعنی پَردہ)ہے مگر اُس کا حُسنِ اَخْلاق آیااِس (نیکی) نے اُس کو بچالیا اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے مِلادیا۔ ایک شَخص کواُس کا اَعمال نامہ اُلٹے ہاتھ میں  دیا جانے لگا تو اُسکا خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ آگیا اور(اِس عظیم نیکی کی بَرَکت سے) اُس کا نامۂ اَعمال سیدھے ہاتھ میں  دے دیا گیا۔ ایک شخص کی نیکیوں  کا وَزْن ہلکا رہا مگر اُس کی سَخاوت آگئی اور نیکیوں  کا وَزن بڑھ گیا۔ ایک شَخص جہنَّم کے کَنارے پر کھڑا تھامگر اُس کا خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّآگیا اور وہ بچ گیا۔ ایک شخص جہنَّم میں  گر گیا لیکن اُس کے خوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ میں  بہائے ہوئے آنسوآگئے اور (اِن آنسوؤں کی بَرَکت سے)وہ بچ گیا۔ 
ایک شَخص پُلْ صِراط پر کھڑا تھا اور ٹہنی کی طرح لرزرہا تھا لیکن اُس کا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ حُسنِ ظَن (یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اچھا گُمان کہ وہ رَحمت ہی کرے گا ) آیا اور (اِس نیکی نے)  اُسے بچالیا اور وہ پُلْ صِراط سے گُزرگیا۔ ایک شَخص پُلْ صِراط پر گِھسَٹ گِھسَٹ کر چل رہاتھا کہ اُسکا مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا آگیا اور( اس نیکی نے) اُسکو کھڑاکرکے پُلْ صِراط پار کروا دیا ۔میری اُمّت کاایک شخص جنّت کے دروازوں  کے پاس پہنچا تو وہ سب اِس پربند تھے کہ اسکا لآالٰہَ اِلَّااللّٰہُکی گواہی دینا آیا اور اُسکے لئے جنّتی دروازے کُھل گئے اور وہ جنّت میں  داخِل ہوگیا۔   (القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ،ص۲۶۵)