لوٹادیا جاتا تھا کہ اتنے میں اُس کے روزے آگئے اور (اِس نیکی نے)اُس کو سَیراب کردیا۔ ایک شخص کو دیکھا کہ جہاں اَنبِیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلام حَلقے بنائے ہوئے تشریف فرما تھے، وہاں ان کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن دُھتکار دیا جاتا تھا کہ اتنے میں اُس کاغُسلِ جَنابت آیا اور(اُس نیکی نے)اُس کو میرے پاس بٹھادیا۔ ایک شخص کو دیکھا کہ اُس کے آگے پیچھے، دائیں بائیں ، اوپر نیچے اَندھیرا ہی اَندھیرا ہے اور وہ اس اَندھیرے میں حیران وپریشان ہے تو اُس کے حجّ وعُمرہ آگئے اور (ان نیکیوں نے )اُس کو اَندھیرے سے نکال کر روشنی میں پہنچا دیا۔ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ مُسلمانوں سے گُفْتگُو کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی اُس کو مُنہ نہیں لگاتا توصِلۂ رِحمی (یعنی رشتہ داروں سے حُسنِ سلوک کرنے کی نیکی)نے مؤمنین سے کہا کہ تم اِس سے بات چیت کرو۔ تو مسلمانوں نے اُس سے بات کرنا شروع کی۔ ایک شَخص کے جِسْم اور چِہرے کی طرف آگ بڑھ رہی ہے اور وہ اپنے ہاتھ سے بچا رہا ہے تواُس کاصَدَقہ آگیا اور اُس کے آگے ڈھال بن گیااور اُسکے سر پر سایہ فِگن ہوگیا۔ ایک شَخص کو زَبانِیہ (یعنی عذاب کے مَخصوص فِرِشتوں )نے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن اُس کا اَمْرٌبِا لْمَعْرُوفِ وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرآیا (یعنی نیکی کا حُکم کرنے اور بُرائی سے مَنْع کرنے کی نیکی آئی) اور اُ س نے اُسے بچالیا اور رَحمت کے فِرِشتوں کے حوالے کردیا۔ایک شَخص کو دیکھا جو گُھٹنوں کے بَل بیٹھا ہے