رَحْمتِ حَق’’ بہانہ‘‘می جُویَد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ رَحمت کرنے پر آتا ہے تو یوں بھی سبب بنا تا ہے کہ کسی ایک عمل کواپنی بارگاہ میں شَرَف ِ قَبولیَّت عطا فرمادیتا ہے اور پھر اسی کے باعِث اُس پررَحمتوں کی بارِش کردیتا ہے ۔ اس ضِمن میں ایک اورحدیثِ مُبارَک پیش کی جاتی ہے جس میں مُتَعَدَّد ایسے لوگوں کا بیان کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی نیکی کے سبب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی گرِفت سے بچ گئے اور رَحمتِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّ نے ا نہیں اپنی آغوش میں لے لیا ۔ چُنانچِہ حضرت سَیِّدُنا عبدالرَّحمن بِن سَمُرہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار حُضُورِ اکرم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پا س تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’آج رات میں نے ایک عجیب خَواب دیکھا کہ ایک شخص کی رُوح قَبض کرنے کیلئے مَلکُ الموتعَلَیْہِ السَّلام تشریف لائے لیکن اُس کاماں باپ کی اِطاعت کرناسامنے آگیا اور وہ بچ گیا۔ ایک شخص پر عذابِ قَبْرچھاگیا لیکن اُس کے وُضو(کی نیکی)نے اُسے بچالیا۔ایک شخص کوشَیاطین نے گھیر لیا لیکن ذِکرُاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ(کرنے کی نیکی نے ) اُسے بچا لیا۔ ایک شخص کو عذاب کے ِفرِشتوں نے گھیر لیا لیکن اُسے (اُس کی)نَماز نے بچالیا۔ایک شخص کو دیکھا کہ پیاس کی شِدّت سے زَبان نکالے ہوئے تھا اور ایک حَوض پر پانی پینے جاتا تھا مگر