Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
232 - 645
حضرت ِسیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے حواریوں  نے آپعَلَیْہِ السَّلام کی خِدْمَت میں  عرض کی : ’’کس کا عمل خالِص ہوتا ہے ؟ ‘‘ فرمایا: ’’اُسی شخص کا عمل اِخلاص پر مَبنی مانا جائیگا جو صِرْف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا کیلئے عمل کرے اور اِس بات کو نا پسند کرے کہ لوگ اِس عمل کے سبب اس کی تعریف کریں ۔‘‘ (احیاء علوم الدین ،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق،الباب الثانی فی الاخلاص وفضیلتہ…الخ،۵/۱۱۰) 
ترے خوف سے تیرے ڈَرسے ہمیشہ	میں  تَھر تَھر رہوں  کانپتا یاالٰہی!
مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو 		کر اِخلاص ایسا عطا یاالٰہی!
			( وسائلِ بخشش، ص۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
لَمحہ بھر میں  مَغْفِرت
حضرت سَیِّدُناانس بن مالک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مَدینے کے سلطان،رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ  مَغْفِرت نشان ہے: ’’جس نے یہ دُرُود شریف پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْاگر کھڑا تھاتو بیٹھنے سے پہلے اوربیٹھا تھا تو کھڑے ہونے پہلے اس کی  مَغْفِرت کردی جاتی ہے ۔‘‘ 						(سعادۃالدارین،الباب الثامن فی کیفیات الصلاۃ …الخ،الصلاۃ السادسۃ،ص۲۴۴)