Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
231 - 645
 کی: یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’مَنْ صَلَّی عَلَیْکَ عَشَرَ مَرَّاتٍ اِسْتَوْجَبَ الْاَمَانُ مِنْ سَخَطِیْ، جو شخص آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دس مرتبہ دُرُود بھیجے گا اس کے لئے میرے غَضب سے اَمان واجب ہوگئی ۔‘‘ 				(سعادۃ الدارین، الباب الثانی فیماورد فی فضل الصلاۃ …الخ، حرف القاف، ص۹۰)
مُخْلِص کا عملِ قَلیل بھی کافی ہے
	مگر یادرہے کہ ہمارا ہر عمل اِخلاص پر مبنی ہونا چاہیے کہ بے شک اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا بظاہر چھوٹا عمل بھی بَہُت بڑا دَرَجہ رکھتا ہے۔ چُنانچِہ سیِّدُالمُرسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ ذِیشان ہے : ’’اَخْلِصْ دِیْنَکَ یَکْفِیْکَ الْقَلِیْلُ مِنَ الْعَمَلِ ،تم اپنے دین میں  مُخلِص ہو جاؤ تمہاراتھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔‘‘ (شعب الایمان،باب فی إخلاص العمل للّٰہ،۵/۳۴۲،حدیث:۶۸۵۹)
گھڑی بھر کا اِخلاص باعثِ نَجات
	حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُناامام محمد غزالی  عَلیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْوَالیایک بُزُرگ سے نَقْل کرتے ہیں  : ’’ایک ساعت کا اِخلاص ہمیشہ کی نَجات کا باعِث ہے مگر اِخلاص بَہُت کم پایا جاتا ہے۔‘‘  (احیاء علوم الدین ،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق،الباب الثانی فی الاخلاص وفضیلتہ…الخ،۵/۱۰۶)