Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
230 - 645
بیان نمبر:23
رِضائے اِلٰہی والا کام
	اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشۃ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہا فرماتی ہیں  : میرے سر تاج ، صاحِبِ مِعراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے : ’’مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَلْقَی اللّٰہَ رَاضِیاً فَلْیُکْثِرْمِنَ الصَّلَاۃ عَلَیَّ، جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اس حال میں  ملے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہو اسے چاہئے کہ وہ مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھے ۔ ‘‘(القول البدیع،الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ،ص۲۶۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اگر ہم روزِ قیا مت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگارہ میں  سُرخرو ہونا چاہتے ہیں  تو مَحَبَّت وشوق کیساتھ سرکارِ مکّۂ مکرمہ، سردارِمدینۂ منوّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ طیبہ پردُرُودِ پاک پڑھنے کو اپنے رو زو شب کا وَظِیفہ بنالیں   کیونکہ دُرُودِ پاک نہ صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا وخُوشنُو دی اور حُصُولِ رَحمت کابہترین ذَرِیعہ ہے بلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قَہروغَضب سے امان کا ضامن بھی ہے ۔چنانچہ
غَضبِ الٰہی سے امان
	مَروی ہے کہ ایک مرتبہ جبریلعَلَیْہِ السَّلامحاضرِ خِدْمت ہوئے اور عرض