عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہاریں بھی حاصل ہوتی ہیں ۔دعوت ِ اِسلامی کے مدَنی ماحول میں رہتے ہوئے حَمد ونعت کی بَرَکات حاصل کرنے والوں پر بعض اَوقات ایسی کرم نَوازی ہوتی ہے کہ سُننے والے اَش اَش کر اُٹھتے ہیں ۔چُنانچہ
مُصْطَفٰے جانِ رَحْمَت کا دِیدار
مَرکزُالا َو ْ لیا(لاہور ) کے مُقیم اِسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب کچھ اسطرح ہے کہ خُوش قِسمَتی سے ایک بار مجھے عاشِقانِ رسُول کے ہمراہ سُنَّتوں کی تَربیت کے لیے مدَنی قافِلے میں سَفر کی سعادَت نصیب ہوئی۔سَفر کے دوران ایک روز شُرکائے قافِلہ نے مَحفلِ نعت کا اِنْعِقاد کیا جس میں عاشِقانِ رسُول نے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت میں ڈوب کر پُر سو زاَنداز میں نعتِ رسُول پڑھیں ج نہیں سُن کرمیرا دل چوٹ کھا گیا اور اسی سوز وگداز کے عالَم میں میری آنکھ لگ گئی ۔ ظاہری آنکھیں توکیا بند ہوئیں دل کی آنکھیں روشن ہو گئیں ۔ کیا دیکھتاہوں کہ میرے سامنے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ، فیَض گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ فر ماہیں اور میں بِلک بِلک کے رو رہا ہوں ۔ اتنے میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مجھ اَدنیٰ اُمَّتِی پر رَحم آ گیا اور آپ نے اپنے دامنِ رَحمت کو وسیع فر مایا اور مجھ عِصْیاں شعار کو آغوشِ رَحمت میں جگہ عطا فرمائی۔ مجھے یوں لگا جیسے مجھے جہاں بھر کا خَزانہ مل گیا ہو۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ