پڑھنا ہی اس کی طرف سے زکوٰۃ(صدقہ کے قائم مقام)ہوگاجیسا کہ بیان کردہ حدیثِ پاک میں صَدَقہ کرنے والے اور دُرُود شریف پڑھنے والے ،دونوں کے حق میں سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک ہی بات ارشاد فرمائی:’’فَاِنَّہا لَہُ زَکَاۃٌ،یہ اس کے لئے زکوٰۃ ہے۔‘‘
یُوں بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل کرتے ہوئے دُرُود پاک پڑھنا باعثِ سعادت ہونے کے علاوہ ایک عَظیم عِبادت بھی ہے ، بُزُرگوں نے دُرُود شریف پڑھنے کی حِکمتیں بھی بیا ن فرمائی ہیں ۔ جس کا خُلاصہ یہ ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے بعد مَخلُوقات میں سب سے زِیادہ کریم ،رَحیم اورشَفیق ہے اور حبیبِ خدا، تاجدارِ انبیاء ،سَروَرِ ہر دوسَرا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مومنوں پر سب سے زِیادہ اِحسانات ہیں اس لئے مُحسنِ اَعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احسان کے شُکریہ کے طورپرہم پردُرُودِ پاک پڑھنا مُقرَّرکیاگیاہے۔ چُنانچہ علَّامہ سَخاوی فرماتے ہیں :’’ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود پڑھنے کا مَقْصد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی پَیروی کرکے اس کاقُرب حاصل کرنا اور نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق کو اَداکرنا ہے۔‘‘ بعض بُزرگوں نے مزید فرمایا : ’’ہمارا نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجنا ہماری طرف سے آپعَلَیْہ السَّلام کے دَرَجات کی بُلندی کی سفارش