صَدَقے سے اَمراض دُور کرو
حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عُمررَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہماسے مروی سے کہ شہنشاہِ خُوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے: ’’تَصَدَّقُوْا وَ دَاوَوْا مَرَضَاکُمْ بِالصَّدَقَۃِ ، صَدَقہ دو اور صَدقے کے ذَرِیعے اپنے مریضوں کامُداوا کیاکروفَاِنَّ الصَّدَقَۃَ تَدْفَعُ عَنِ الْاَعْرَاضِ وَ الْاَمْرَاضِ،بے شک صَدَقہ حادثوں اور بیماریوں کی روک تھام کرتا ہے وَہِیَ زِیَادَۃٌ فِیْ أَعْمَالِکُمْ وَحَسَنَاتِکُم اور یہ تُمہارے اَعمال اور نیکیوں میں اِضافے کا باعث ہے۔‘‘ (شعب الایمان ،باب فی الزکاۃ ،فصل فیمن اتاہ اللّٰہ مالامن غیرمسالۃ،۳ /۲۸۲، حدیث: ۳۵۵۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}دُرُودِ پاک
حدیث شریف میں تیسری چیزجس کی ہمیں تعلیم دی گئی وہ حَبِیبِ مُکَرَّم، مَحبوبِ ربِّ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مُحترم پر دُرُودِ پاک پڑھنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس قَدر مُفلِس و نادار ہے کہ اس کے پاس اپنی حاجت سے زائد مال نہیں جسے وہ راہِ خُداوَندی عَزَّوَجَلَّمیں صَدَقہ کرے تو اسے چاہئے کہ غم نہ کرے بلکہ تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکت پر دُرُودِ پاک پڑھ لیاکرے کہ اس کا یہ دُرُودِ پاک