اُس کے پیٹ میں رہے اور اگر اسی حالت میں مر گیا تو اس کا ٹھکانا جہنَّم ہو گا۔(مکاشفۃ القلوب، ص ۱۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2}صَدَقَہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث شریف میں صَدَقہ کاتَذکرہ بھی ہے جیسا کہ خَلْق کے رَہبر،شافعِ محشر، محبوبِ داوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ جس نے حَلال مال کمایا اورمَخلُوقِ خُدا میں سے کسی کو کھلایا یا پہنایاتو وہ اس کے لئے زکوٰۃ ہے ۔‘‘
قُرآنِ پاک اوراحادیثِ کریمہ میں جا بَجا صَدقے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس کے فَضائل بھی بیان کیے گئے ہیں ۔چُنانچہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قُرآنِ پاک میں اِرشادفرماتاہے:
وَ یُطْعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیۡنًا وَّ یَتِیۡمًا وَّ اَسِیۡرًا ﴿۸﴾ (پ۲۹،الدہر:۸)
ترجمہ کنز الایمان :اور کھانا کھلاتے ہیں اس کیمَحَبَّتپرمِسکین اور یتیم اور اَسیر کو۔
حضرتِ صدر الْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیخَزائنُ العرفانمیں اس آیتِ کریمہ کا شانِ نُزُول بیان کرتے ہوئے