Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
223 - 645
 رکھنا بے حَد ضَروری ہے کہ ہماری لاپرواہی کی وَجہ سے ہماری حَلال روزی میں  حَرام کی آمیزِش ہرگز ہرگز نہ ہونے پائے وَرنہ بڑی حَسرت ہوگی۔یاد رکھئے! بندہ اپنے حصّے کی روزی کھاکر ،زِندَگی گزار کر لوگوں  کے کاندھوں  پر جنازے کے پنجرے میں  سُوار ہوکر جب جانبِ قبرستان سِدھارتا ہے تو دُنیا میں  اپنے اَہل و عَیال کیمَحَبَّت میں  اَندھاہوکر ان کی خاطِر جائز و ناجائز کی پَروا کئے بِغیر کمائے ہوئے مال پر مَلال کرتے ہوئے لوگوں  کوجونصیحت کرتا ہے اسے بیان کرتے ہوئے سر ورِ کائنا ت،شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں  : ’’جب مُردے کوتَخت پر رکھ کر اُٹھایا جاتا ہے تو اُس کی رُوح پَھڑپَھڑا کرتَخت پر بیٹھ کرنِداکرتی ہے کہ اے میرے اَہل وعَیال ! دُنیا تُمہارے ساتھ اِس طرح نہ کھیلے جیساکہ اس نے میرے ساتھ کھیلا،میں  نے حَلال اور غیرِ حَلال مال جَمْع کیا اور پھر وہ مال دوسروں  کے لئے چھوڑ آیا ۔اس کا نَفْع اُن کیلئے ہے اور اس کا نُقْصان میرے لئے ،پس جو کچھ مجھ پر گُزری ہے اس سے ڈرو۔ ‘‘(یعنی عبرت حاصل کرو۔)   (التذکرۃ قُرطبی،ص۷۶)
لُقمۂ حَرام کا وَبال
مَنْقُوْل ہے کہ جب انسان کے پیٹ میں  حرام کا لُقْمہ پڑتا ہے تو زَمین و آسمان کا ہرفِرِشتہ اُس پر اُس وَقت تک لَعْنت کرتا ہے جب تک کہ وہ حَرام لُقْمہ