کہا جاتاہے۔ حلال روزی میں بڑی برکت ہوتی ہے اورحدیثِ پاک کی رُوسے پتاچلتاہے کہ اس سے بہترکوئی کمائی نہیں ۔ چنانچہ
سب سے بہتر اور پاکیزہ کھانا
حضرتِ سَیِّدُنامِقْدام بِن مَعْدِیکرب رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ راحتِ قلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِبادصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا ارشادِ حقیقت بُنیاد ہے: ’’مَااَکَلَ اَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْراً مِّنْ اَنْ یَاْکُلَ مِن عَمَلِ یَدِہِ سب سے بہتر وہ کھانا ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھائے، وَاَنَّ نَبِیَ اﷲِدَاؤدَ کَانَ یَاکُلُ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ، اور بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی داودعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ والسَّلاماپنی دَسْتکاری (ہاتھ کی کمائی) سے کھاتے تھے۔‘‘(بخاری،کتاب البیوع ،باب کسب الرجل …الخ ،۲ /۱۱،حدیث :۲۰۷۲)
اُم المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدِّیقہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا سے روایت ہے کہ حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’اِنَّ اَطْیَبَ مَا اَکَلْتُمْ مِنْ کَسْبِکُمْ، تُمہارے کھانوں میں پاکیزہ کھانا وہ ہے جوتُمہاری محنت کی کمائی کا ہو ۔ (ترمذی، کتاب الاحکام ،باب ماجاء ان الوالد یاخذ من مال ولدہ،۳/۷۶، حدیث: ۱۳۶۳ (
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جائز ذَرائعِ آمدَنی اِختیار کرتے ہوئے اپنے اَہل وعَیال کے لئے بَقدرِ ضَرورت مال کمانے میں کوئی قَباحت نہیں مگر یہ خیال