بیان نمبر:22
صَدقے کی اِسْتِطاعت نہ ہو تو!
محبوبِ خدائے تَوّاب ،جنابِ رسالت مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اَیُّمَارَجُلٍ کَسَبَ مَالًا مِنْ حَلَالٍ فَاَطْعَمَ نَفْسَہُ اَوْکَسَاھَا، جو شخص حَلال مال کمائے پھر خُود کھائے یا پہنے ‘‘فَمَنْ دُوْنَہُ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ فَاِنَّہَا لہُ زَکَاۃٌ،یاپھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مَخلُوق میں سے کسی کو کھلائے یاپہنائے (یعنی صَدَقہ کرے) تو یہ اس کے لئے زَکوٰۃ ہے، وَاَیُّمَا رَجُلٍ لَمْ یَکُنْ لَہُ عِنْدَہُ صَدَقَۃٌفَلْیَقُلْ فِیْ دُعَائِہِ، اور جس شخص کے پاس صَدَقہ کرنے کے لئے کچھ نہ ہو تواس شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی دُعا میں یہ دُرُودِ پاک پڑھ لیا کرے ،اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ وَصَلِّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِبے شک یہ دُرُود اس کے لئے زکوٰۃ ہوگا۔ (شعب الایمان، باب التوکل باللّٰہ عز و جل و التسلیم ،۲/ ۸۶،حدیث:۱۲۳۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک میں تین چیزوں کا ذکر ہے۔ (۱)کسبِ حَلال(۲)صَدَقہ (۳)دُرُودِپاک
{1}کَسْبِ حَلال
محنت ومشقت کرکے اپنے ہاتھ سے جو رِزق کمایاجائے اسے کسبِ حلال