بلکہ پُکارنے، اُس سے مُناجات کرنے کی لَذَّت میں ایسا ڈوب جا کہ اِرادہ ومُراد کچھ یاد نہ رہے ، یقین جان کہ اِس دروازے سے ہرگِز مَحروم نہ پِھرے گا کہ مَنْ دَقَّ بَابَ الْکَرِیْم اِنْفَتَحَ(جس نے کریم کے دَروازے پر دَستک دی تو وہ اس پر کُھل گیا )۔(فضائل دعا،ص ۱۰۲)
سوار کے پیالے کی مانِنْد نہ بناؤ
حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہخاتَمُ النَّبِیِّین، صاحِبِ قراٰنِ مُبین،محبوبِ ربُّ العٰلَمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ مجھے سوار کے پیالے کی مانند نہ بناؤ کہ سوار اپنے پیالے کو پانی سے بھرتا ہے پھر اسے رکھتا ہے اور سامان اُٹھاتا ہے، پھر جب اسے پانی کی حاجت ہوتی ہے تو اسے پیتا ہے، وضو کرتا ہے ورنہ اسے پھینک دیتا ہے لیکن مجھے تم اپنی دُعا کے اَوَّل وآخِر اور دَرمیان میں یادرکھو۔‘‘ (مجمع الزوائد، کتاب الادعیہ ،باب فیما یستفتح بہ الدعاء من حسن الثناء …الخ، ۱۰/ ۲۳۹،حدیث:۱۷۲۵۶)
حضرتِ سَیِّدُنااِبن عَطاء رَحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ دُعا کے اَرکان، پَر، سامان اور اَوقات ہیں ، پس اگر دُعا اَرکان کے مُوافِق ہوئی تو قَوی ہو گی اور اگر پَروں کے مُوافِق ہوئی توآسمان کی طرف اُڑ جائے گی اور اگر وَقتوں کے مُوافق ہوئی تو کامیاب ہو جائے گی اور اگر اَسباب کے مُوافق ہوئی تو کمال تک پہنچ جائے گی ،دُعا کے اَرکانحُضُورِ قلب، رِقَّت،سُکون ، قرار ، خُشوع ،