فقیر نہیں چھوڑا،یہ وَظائِف پڑھتے ہیں ،وہ اَوْراد بھی پڑھتے ہیں ، فُلاں فُلاں مَزار پر بھی گئے مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہماری حاجت پوری کرتا ہی نہیں ۔ حالانکہ بسا اَوقات قَبولِیَّتِ دُعاء کی تاخِیر میں کافی مصلحتیں بھی ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں لہٰذا دعامیں جلدی نہیں مچانی چاہئے کہ یہ دُعاکے آداب کے خِلاف ہے ۔ جیسا کہ رئیسُ الْمُتَکَلِّمِین حضرتِ علامہ مولانا نَقی علی خانعَلَیْہِ رحمۃُ الرَّحمٰن اَحسَنُ الْوِعَائِ لِاٰدابِ الدُّعاءمیں فرماتے ہیں :’’(دُعا کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ)دُعا کے قَبول میں جلدی نہ کرے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ خُدائے تعالیٰ تین آدمیوں کی دُعا قَبول نہیں کرتا ایک وہ کہ گُناہ کی دُعا مانگے دوسرا وہ کہ ایسی بات چاہے کہ قَطْعِ رِحم ہوتیسرا وہ کہ قَبول میں جلدی کرے کہ میں نے دُعا مانگی اب تک قَبول نہ ہوئی ایسا شخص گھبرا کر دعا چھوڑ دیتا ہے اور مطلب سے محروم رہتا ہے۔‘‘ (مسلم، کتاب الذکر والدعاء ، باب بیان أنہ یستجاب للداعی ما لم یعجل…إلخ، ص۱۴۶۳،حدیث:۲۷۳۵)
قَبُولِیَّتِ دُعامیں تاخیر ہوتو !
اس کے حاشیے میں اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسنَّت مجدِّدِ دین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن دُعا کی قَبولِیَّت میں جلدی مچانے والوں کو اپنے مخصُوص انداز میں سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اواَحْمَق! اپنے سَر سے پاؤں تک نَظَرِ غور کر! ایک ایک رُوئیں میں ہروَقت ہر آن کتنی کتنی ہزاردَرْ ہزار