میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح دُرُودشریف پڑھنے کا ایک مَقام دُعا کا اَوَّل وآخِر بھی ہے کہ جب بھی دُعا مانگیں تو اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے ، اَوَّل و آخر دُرُودشریف پڑھتے ہوئے دُعا مانگیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے ہماری دُعائیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں مَقبول ہوں گی کیونکہ دو دُرُودوں کے درمیان دُعا کبھی رَد نہیں ہوتی ۔ مگر یاد رکھئے !ہماری دُعا دَرَجۂ قَبولیت کو اسی صُورت میں پہنچے گی کہ جب ہم دُعا کے آداب کوملحوظِ خاطر رکھیں گے، آج ہم دُعائیں تو مانگتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتیں اس کی کیا وجہ ہے حالانکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قُرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا :
اُدْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ ترجمۂ کنزالایمان:مجھ سے دُعا کرو میں قَبول کروں گا۔
(پ۲۴،المؤمن:۶۰)
تین قِسم کے لوگوں
کی دُعا قَبول نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شاید اس کی وَجہ یہ ہے کہ ہم لوگ دُعا کے آداب کا خیال نہیں رکھتے ، بے توَجُّہی کے ساتھ دُعامانگتے ہیں اور پھر دُعاکی قَبولِیَّت میں بہت جلدی مچاتے بلکہمَعَاذاللّٰہباتیں بناتے ہیں کہ ہم تو اتنے عَرصے سے دُعائیں مانگ رہے ہیں ، بُزُرگوں سے بھی دُعائیں کرواتے رہے ہیں ، کوئی پیر