دُرَّۃُ النَّاصِحِیْنمیں ہے ایک بُزُرگ نماز پڑھ رہے تھے جب تَشہُّد میں بیٹھے تورسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودشریف پڑھنا بھول گئے رات جب آنکھ لگی تو خَواب میں سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت سے مُشرَّف ہوئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اے میرے اُمَّتِی! تونے مجھ پر دُرُودِ پاک کیوں نہیں پڑھا؟عرض کی: یَارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء میں ایسا محو ہوا کہ دُرُودِ پاک پڑھنا یاد نہیں رہا ،یہ سُن کر سردارِ مکۂ مکرمہ،سلطانِ مدینۂ منوّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کیا تو نے میری یہ حدیث نہیں سنی کہ ساری نیکیاں ، عبادتیں اور دُعائیں روک دی جاتی ہیں جب تک مجھ پر دُرُودِپاک نہ پڑھا جائے ۔‘‘سن لے! اگر کوئی بندہ قِیامت کے دن دربارِالٰہی میں سارے جہان والوں کی نیکیاں لے کرحاضِر ہوجائے اور ان نیکیوں میں مجھ پر دُرُودِ پاک نہ ہوا توساری کی ساری نیکیاں اس کے مُنہ پر ماردی جائیں گی اور ایک بھی قَبول نہ ہو گی۔(درۃ الناصحین،المجلس الرابع فی فضیلۃشہر رمضان، ص۱۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ روایت و حکایت سے دُرُود شَریف کی اَہَمِّیَّت کا اندازہ ہوتا ہے کہ دُرُودشریف جہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کے نُزُول کا سبب ہے وہیں عِبادتوں ، نیکیوں اور دُعاؤں کی قَبولیت کا سبب بھی ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد