Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
214 - 645
کے بادشاہ ، دو عالم کے شَہَنشاہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کو نماز میں  صرف دُعامانگتے ہوئے سنا ،نہ تو اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عظمت وکبریائی بیا ن کی اور نہ ہی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودشریف پڑھا۔ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس نے جلدی کی پھر اسے بلایا اسے اور دوسروں  کو اس بات کی تعلیم فرمائی کہ جب تم نَمازپڑھو تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثنا سے شُروع کیا کرو پھرمجھ پردُرُود شریف پڑھا کرو پھر جو چاہو دُعا مانگو۔(ابوداود ،کتا ب الوتر ،باب الدعاء،۲/۱۱۰،حدیث:۱۴۸۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس روایت سے معلوم ہوا کہ تَشہُّد کے بعد اور دُعا سے قَبل دُرُود شریف پڑھنے کی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ترغیب دی ہے لہٰذہمیں  بھی اس موقع پردُرُود شریف پڑھنا چاہیے اوراس کو ہرگز ہرگز ترک  نہیں   کرنا چاہیے۔ 
امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا فارُوقِ اعظمرَضِی اﷲ تَعالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :’’ اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ،دُعا زَمین و آسمان کے دَرمیان روک دی جاتی ہے‘‘، ’’لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْء ٌحَتَّی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،وہ بُلَنْد  نہیں   ہوتی جب تک کہ تُم اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک نہ پڑھو۔‘‘(ترمذی ،کتاب الوتر،باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی،۲/۲۸،حدیث:۴۸۶)