Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
213 - 645
چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ،دُعا سے پہلے اور دُعاکے بعد ،الغرض جب چاہیں  جس جگہ چاہیں  جن الفاظ کے ساتھ چاہیں  دُرُودپاک پڑھ سکتے ہیں  ۔ لہٰذاجس وَقت بھی ہم دُرُودشریف پڑھیں  گے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کی بَرَکتوں  سے مُسْتفِیض ہوں  گے اوریہ دُرُودشریف ہمارے تمام رَنج و اَلم کودُور کرنے اور گُناہوں  کی مُعافی کے لئے کافی ہوگا۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنا اُبی بن کَعْب رَضیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی : ’’اَجْعَلُ لَکَ صَلَاتِیْ کُلَّہَا، میں  اپنا سارا وَقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھتا رہوں گا۔‘‘ توحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اِذاً تُکْفٰی ہَمَّکَ وَیُغْفَرُ لَکَ ذَنْبُک،تب یہ دُرُودشریف تیرے رَنج واَلم دُور کرنے کے لئے کافی ہے اور تیرے سارے گُناہ بَخش دیئے جائیں  گے۔‘‘(ترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ ،باب۔۲۳،۴/ ۲۰۷،حدیث: ۲۴۶۵ )
اس سے معلو م ہوا کہ دُرُود شریف ہروَقت پڑھ سکتے ہیں  اَلْبتَّہ بعض اَوقات ایسے ہیں  جن میں  بطورِخاص دُرُودشریف پڑھنااحادیثِ مُبارکہ میں  مذکور ہے اورعُلمائے کرام نے بھی کچھ مواقع بیان فرمائے ہیں  ۔ان میں  سے ایک مَقام تَشَہُّدہے ،تَشَہُّدکے بعد اور دُعا سے قَبل دُرُود شریف پڑھنے کی آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ترغیب دی ہے جیسا کہ 
حضرتِ سَیِّدُنا فَضَالَہ بن عُبید رَضیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ بحرو بر