Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
212 - 645
 بیان نمبر:21
ایک عَظِیْم نُور
	امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ بے مثال ہے : ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِاءَۃَ مَرَّۃٍ ،جو شخص روزِ جُمُعہ مجھ پر سو بار دُرُودِ پاک پڑھے‘‘،’’جَاءَ یَوْمَ القِیَامَۃِ وَمَعَہُ نُورٌ ،جب وہ قِیامت کے روز آئے گا تو اُس کے ساتھ ایک نُور ہوگا‘‘،’’ لَوْ قُسِّمَ ذَلِکَ النُّورُ بَیْنَ الْخَلْقِ کُلِّہِمْ  لَوَسَعَہُمْ ،اگر وہ نُور پُوری مَخلُوق میں  بھی تَقْسِیم کردیا جائے تو سب کو کِفایت کرے ۔‘‘  (حلیۃ الأولیاء،ابراہیم بن ادہم، ۸/ ۴۹،حدیث:۱۱۳۴۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے قُرآنِ مجیدمیں  ہمیں  اپنا ذِکر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا اور ذِکر کو اپنی ایسی عِبادت بنایا جو ہر وَقت کی جا سکتی ہے  اس کے لئے کوئی خاص مَقام اور خاص وَقت مُقَرَّ ر  نہیں   فرمایا ہم جس وَقت چاہیں  ، جہاں  چاہیں  ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کرسکتے ہیں  ایسے ہی اپنے پیارے  مَحبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُود پڑھنے کو بھی ایسی مُنفرِدعِبادت بنادیا جوکسی وَقت کے ساتھ خاص  نہیں   ، صُبح وشام ، دن رات ،