صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علّامہ مولانامُفْتِی محمد اَمجد علی اَعْظَمِی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِیقیامت کے دن کی پیاس کے بارے میں فرماتے ہیں :’’اس گرمی کی حالت میں پیاس کی جو کیفیت ہوگی مُحتاجِ بیان نہیں ،زبانیں سُوکھ کر کانٹا ہو جائیں گی ،بعضوں کی زبانیں مُنہ سے باہر نکل آئیں گی، دل اُبل کر گلے کو آجائیں گے (بہارِ شریعت، ۱/ ۱۳۴) اگرایسی کڑی دھوپ اور شدید پیاس سے نَجات ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابرکات پر کثرت سے دُرودِپاک پڑھنے سے حاصل ہوجائے تو یقین جانئے کہ یہ انتہائی سستا سودا ہے۔
سُوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہوجائے چھائے رَحمت کی گَھٹا بن کے تمہارے گیسو
ہم سِیاہ کاروں پہ یارَبّ تپشِ محشر میں سایہ اَفگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو
(حدائقِ بخشش،ص۱۱۹)
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی توفیقِ رفیق مَرحمت فرما اور اس کی بَرَکت سے ہماری دُنْیوِی اور اُخْرَوِی پریشانیاں دُور فرما ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭