Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
210 - 645
گرمیٔ مَحْشر کا عالَم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ رِوایت سے بَخُوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کاروانِ حَیات اگر رَواں  دَواں  ہے تو صِرف اورصِرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا بجالانے والوں  اور اس کی اِطاعَت و فرمانبرداری کرنے والوں  کے طُفیل ، اگر یہ مقبولانِ بارگاہ نہ ہوتے تو نجانے ہم گُناہگاروں  کا کیا بنتا۔نیز اس رِوایت سے یہ بھی پتا چلاکہ روزِ محشر کی پیاس سے نَجات کا بہترین ذَرِیعہ پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھنا ہے ۔ یاد رکھئے کہ مَحشر کی پیاس کوئی مَعمُولی پیاس نہ ہوگی کیونکہ اُس دن اس قَدرشدَّت کی گرمی ہوگی کہ اہلِ مَحشر سرتاپا پسینے میں  نہاتے ہونگے اور پیاس کی شدَّت سے بے حال ہو رہے ہونگے ،حدیث شریف میں  ہیغیب دان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یَعْرَقُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،قیامت کے دن لوگ پسینے سے شرابور ہونگے‘‘’’حَتّٰی یَذْھَبَ عَرَقُہُمْ فِی الْاَرْضِ سَبْعِیْنَ ذِرَاعًا‘‘  حتّٰی کہ اس کثرت سے پسینہ نکلے گاکہ ستّر گز زَمین میں  جَذْب ہوجائے گا۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب قول اللّٰہ تعالی الا یظن اولئک انہم مبعوثون…الخ ، ۴/۲۵۵ حدیث: ۶۵۳۲)
یا الہٰی! گرمیٔ محشر سے جب بھڑکیں  بدن		دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو
یاالٰہی !جب زبانیں  باہر آئیں  پیاس سے		صاحبِ کوثر شہِ جُود و عطا کا ساتھ ہو
(حدائقِ بخشش،ص۱۳۲)