والسَّلام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تمہارا ٹھکانا کہاں ہے اور تمہارانَسب کیا ہے؟ اُنہوں نے گردنیں جُھکالیں اور بولے :ہم ہمیشہ مَدینہ مُنوَّرہ کے رہنے والے جنّ ہیں ۔میں نے کہا میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدار کرنا چاہتا ہوں ۔ بولے، کھانا کھالو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دیدار بھی ہو جائے گا۔میں نے کھانا کھایا، پھر ہم نکلے توکیا دیکھتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جَماعت کے ہمراہ تشریف لارہے ہیں اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کی گردن مُبارک سب سے بُلند ہے اور اپنی گردن مُبارک اور شانۂ اقدس کے لحاظ سے سب پر فائق ہیں ، جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ’’احمد !کیا ساری نیکیاں دفعۃً سمیٹنا چاہتے ہو؟اپنے نَفْس پر نرمی کرو ،تم پر یہی لازِم ہے‘‘ اور یہ بھی ارشاد فرمایا:’’ مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھا کرو تمہارے لئے بہتری ہی بہتری ہے ۔‘‘میں نے عرض کی :’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میرے ضامن ہوجائیں ؟‘‘ فرمایا:’’ مجھ پر دُرُود پڑھنا لازم کر لو جو مانگو گے ملے گا۔‘‘ ( سعا دۃ ا لدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات…الخ ،اللطیفۃ السادسۃ عشرۃ،ص ۱۳۱)
مانگ مَن مانْتی مُنہ مانگی مُرادیں لے گا
نہ یہاں ’’نا‘‘ہے نہ منگتے سے یہ کہنا’’کیا ہے‘‘ (حدائقِ بخشش،ص۱۷۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد