عَلٰی صَاحِبہا الصَّلٰوۃُ والسّلامکا اِرادہ ہے۔ میں نے کہا: مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو۔ بولے اگر ارادہ ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ برکت دے گا۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا اور وہ مجھے لے کر ہوا میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اُڑنے لگے ،ایک ساعت کے بعد ہم مکہ میں تھے ۔وہ بولے : یہ رہابَیْتُ الْحَرَام ۔ اُنہوں نے طَواف کیا اور میں نے بھی ان کے ہمراہ طَواف کیا، پھر اُنہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا نام لے کر مجھے ساتھ لیا اور اگلے ہی لمحے ہم لوگ مسجدِنَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ والسَّلام میں تھے ، ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک خُوبصورت شخص ہاتھ میں ایک بڑا برتن جس میں ثَرید (شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی )اور شہد لے کر آیااور کہا شُروع کیجئے ۔میں نے اسے کہا : میں رسُولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا کھانا کھالو، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تشریف لائیں گے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم ان کی زِیارت سے بھی مُشرَّف ہوگے۔ میں نے دل میں کہا ، کیسی تَعَجُّب کی بات ہے ابھی میں نے اپناگھر چھوڑا اور تھوڑی ہی دیر میں مَکّہ مُعظَّمہ اور رَوضۂ رسول کی حاضِری سے مُشرَّف ہوگیا، مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ جن ساتھیوں نے مجھے اُٹھایاتھا وہ کون لوگ تھے اور ان کا نسب کیا تھا؟ میں نے ان سے کہا:میں تم سے خدائے بُزُرگ و برتر اوراس کے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اللّٰہ کے نبی حضرت سَیِّدُناداؤد عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلیْہ الصَّلٰوۃُ