کیلئے اُٹھا تیں ۔ بہتر یہ ہے کہ اس ساعت میں (کوئی) جامِع دُعا مانگے جیسے یہ قراٰنی دُعا:’’ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (پ ۲،البقرہ: ۲۰۱) (ترجَمۂ کنز الایمان: اے ہمارے رب ہمیں دُنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذابِ دَوزخ سے بچا)۔‘‘(مراٰۃ ، ۲/۳۱۹ تا ۳۲۵،ملخصًا)
دُعا کی نِیَّت سے دُرُود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں کہ دُرُود بھی عَظِیم الشَّان دُعا ہے بلکہ اگر ہم اِخلاص کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھ کر صِدقِ دل سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کسی حاجت کا سوال کریں تو اس کی رَحمت سے قَوی اُمید ہے کہ وہ ہمارا سوال رَد نہیں فرمائے گااور ہمارے خالی دامن گوہرِمُراد سے بھر دے گا ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ اس ضِمن میں ایک حِکایت سُنئے اورجُھوم اُٹھئے۔ چُنانچہ
جو مانگنا ہے مانگو
حضرتِ سَیِّدُنااحمد بن ثابت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی علَیْہ فرماتے ہیں : دُرُودوسَلام کے فَضائِل میں سے جو میں نے دیکھے ہیں ایک یہ بھی ہے کہ ایک رات (خَواب میں ) کیا دیکھتا ہوں کہ جِنَّا ت کی ایک جماعت کے رُوبرو کھڑا ہوں ، میں نے ان سے پوچھا :تم کہاں سے آئے ہو؟اُنہوں نے کسی بُزُرگ کا نام لیا کہ ان کے ہاں سے ۔وہ بُزُرگ ہمارے اہلِ قَرابت میں سے تھے ، میں نے پوچھا: تمہارا ارادہ کہاں کا ہے ؟کہنے لگے :اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مکہ معظمہ اور رَوضۂ نبوی