Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
205 - 645
 عنایت نشان ہے، جُمُعہ میں  ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کچھ مانگے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسکو ضَرور دیگااور وہ گھڑی مختصر ہے۔ (مسلم،کتاب الجمعۃ، باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ، ص۴۲۴،حدیث:۸۵۲ ) 
	ایک موقع پرحُضُور پُر نور ، شافِعِ یومُ النُّشور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس گھڑی کی نِشاندَہی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ جُمُعہ کے دن جس ساعت کی خَواہِش کی جاتی ہے اُسے عَصر کے بعد سے غُروبِ آفتاب تک تلاش کرو۔‘‘ (ترمذی ،کتاب الجمعۃ،باب ماجاء فی الساعۃ اللتی ترجی …الخ ،۲/۳۰، حدیث:۴۸۹)
	مُفسّرِ شہیر حکیم الامَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ المنّان فرماتے ہیں  : ’’ہر رات میں  روزانہ قَبولیّتِ دُعا کی ساعت آتی ہے مگر دِنوں  میں  صِرف جُمُعہ کے دن۔ مگریقینی طور پر یہ  نہیں   معلوم کہ وہ ساعت کب ہے ، غالِب یہ کہ دو خُطبوں  کے درمِیان یا مغرب سے کچھ پہلے ۔‘‘ایک اور حدیثِ پاک کے تَحت مفتی صاحِب فرماتے ہیں  :’’اس ساعت کے متعلِّق عُلَماء کے چالیس قول ہیں  ، جن میں  دو قول زِیادہ قوی ہیں  ، ایک دو خُطبوں  کے دَرمیان کا ، دوسرا آفتاب ڈوبتے وقت کا ۔ ‘‘
حکایت:حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمۃُ الزَّہراء رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہااس وَقت خُود حُجرے میں  بیٹھتیں  اور اپنی خادِمہ فِضَّہ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہا کو باہَر کھڑا کرتیں ، جب آفتاب ڈوبنے لگتا تو خادِمہ آپ کو خبر دیتیں  ،اس کی خبر پر سیِّدہ اپنے ہاتھ دُعا