Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
204 - 645
بکثرت احادیثِ مُبارکہ میں  اس دن دُرُود خوانی کی کثرت کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
	احادیثِ کریمہ میں  روزِجُمُعہ کے بے شُمار فَضائِل بھی بیان کیے گئے ہیں  ، اللّٰہ تبارَک وَ تَعَالٰی  کاہم پر کس قَدر احسانِ عَظِیْم ہے کہ اس نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے صدقے ہمیں  جُمُعۃُ المبارَک کی نِعمت سے سرفراز فرمایا۔مگرا فسوس! ہم نا قَدرے جُمُعہ شریف کوبھی عام دنوں  کی طرح غَفْلَت میں  گزار دیتے ہیں  حالانکہجُمُعہ یومِ عید ہے ، جُمُعہ سب دنوں  کا سردار ہے، جُمُعہ کے روز جہنَّم کی آگ  نہیں   سُلگائی جاتی ، جُمُعہ کی رات دَوزخ کے دروازے  نہیں   کُھلتے ، جُمُعہ کو بروزِ قِیامت دُلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، جُمُعہ کے روز مرنے والا خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا اور عذابِ قَبْرسے محفوظ ہو جاتا ہے۔ مُفسّرِشہیر حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمۃُ المنَّان کے فرمان کے مطابِق، ’’جُمُعہکو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہے ، جُمُعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّر گُنا ہے ۔‘‘ (مراٰۃ،۲/ ۳۲۳، ۳۲۵، مُلَخصاً) (چُونکہ اس کاشَرَف بَہُت زِیادہ ہے لہٰذا ) جُمُعہ کے روز گُناہ کا عذاب (بھی) ستّر گُنا ہے۔ (ایضاًص ۲۳۶)
قَبُولیتِ دُعا کی ساعت
	سرکارِ مکّۂ مکرمہ، سردارِمدینۂ مُنوَّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ