پڑھے جارہے تھے ۔ حتّٰی کہ ُانہوں نے آنکھیں بند کرلیں ۔میں نے ہونٹوں سے کان لگائے تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّاس وقت اُن کی زبان پر کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہکے اَلفاظ تھے۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے بھائی نے دَم توڑ دیا۔ چند دنوں بعد اہل خانہ میں سے کسی نے خَواب دیکھا کہ بھائی نعمان عطاری جَنَّتُ الْفِردوس میں سَبْز عمامہ شریف سجائے تشریف فرما ہیں اور چہرہ خُوشی سے دَمک رہا ہے۔ پوچھا:’’تمہیں یہ مقام کیسے ملا ؟‘‘فرمایا : سَبْز عمامہ شریف اپنانے کی بَرَکت سے، جب مجھے قَبر میں سب چھوڑ کر چلدئیے اور جب سرکارِ مدینہ ، راحَتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری ہوئی تو میں نے ادباً ہاتھ باندھ لئے، آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُسکرادیئے اور کچھ یوں ارشاد فرمایا: ’’ جو ہماری سُنَّت سے راضی ہیں وہ ہمارے ہیں اور جنہیں ہماری سُنَّت سے پیار نہیں ان سے ہمار ا بھی کوئی واسطہ نہیں ۔‘‘
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول پر اِسْتِقامت ِجاوِدانی اور توفیقِ کثرتِ دُرُود خوانی عطا فرما۔
اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭