Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
201 - 645
مجھ سے فرمانے لگے کہ آج میں  بیٹھ کر آنکھیں  بند کئے دُرُودِ پاک پڑھ رہا تھا اور آگے پیچھے جُھوم رہا تھا تومیری خُوش نصیبی اپنی مِعْراج کو پہنچ گئی ، میں  نے دیکھا کہ سامنے سرکارِ مدینہ،سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلبُ و سینہ، فیض گنجینہ،صاحبِ مُعَطَّرِ پسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جلوہ فرما ہیں  ۔ لب ہائے مُبارَکہ کو جُنبِش ہوئی، رَحمت کے پُھول جَھڑنے لگے اَلفاظ کچھ یُوں  ترتیب پائے’’جب دُرُود شریف پڑھو تو آگے پیچھے  نہیں   دائیں  بائیں  جُھومو ۔ ‘‘  اپنے بھائی کی بَخْت آوری کا بیان سُن کر میں  بھی جُھوم اُٹھا ۔ اب تو وہ کئی کئی گھنٹے آنکھیں  بندکئے مُسلسل دُرُودِ پاک، الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہاور کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہکا وِرْد کرتے رہتے ۔ والدصاحب جب کبھی جَوان اَولاد کی بیماری کے باعِث زِیادہ رَنْجِیدَہ ہوتے اور ڈاکٹر پر اپنی تَشْوِیش کا اِظہار کرتے تو ڈاکٹر صاحب والد صاحب کوتَسلِّی دیتے ہوئے کہتے : ’’موت تو بَرحق ہے مگر ہم آپ کے بیٹے کے عِلاج پرخُصُوصی توَجُّہ دے رہے ہیں  اور رَشک کررہے ہیں  کہ آپ کتنے خُوش نصیب باپ ہیں  ، جن کی اَولاد ایسی نیک ہے کہ برابر ذِکْر و دُرُود میں  مَصروف رہتی ہے۔‘‘ 
	10رَمَضان المُبارَک ۱۴۲۴؁ھ بروز جُمُعہ رات کم و بیش2 بجے بھائی کی طبیعت زِیادہ خراب ہونے پر آکسیجن لگادی گئی ۔پھر بھی عالمِ غُنودگی میں  کچھ