Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
200 - 645
	دُرُودِپاک پڑھنے والا کس قَدر بَخْتْوَر ہے کہ مرنے سے پہلے ہی  جنَّت میں  اپنا ٹھکانا دیکھ لیتاہے اور جس خُوش نصیب کو دُنیا ہی میں  اس کا جنَّتی محل دکھا دیا جائے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نظرِ عنایت سے اُمّیدِ واثِق ہے کہ نہ صرف وہ داخلِ جَنَّت ہوگا بلکہ اسکی اَبَدی نعمتوں  سے مَحظُوظ بھی ہوگا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ۔ اسی ضِمن میں  ایک اسلامی بھائی کی مَدنی بہار سُنئے اور خُوشی سے سر دُھنئے ۔  چنانچہ 
	اندرونِ سِندھ کے مُقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ میرے بھائی نعمان عطاری (عمر تقریباً 18سال)2002؁ء میں  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے۔ سر پرمُستقِل طور پر سَبْزسَبْز عمامہ شریف سجا لیا۔ فرائض و واجبات کی اَدائیگی کی کوشش کے ساتھ ساتھ سُنَن ومُسْتحبات پر عمل کی کوشش کیا کرتے۔ نماز فجر کیلئے مسلمانوں  کو بیدار کرنے کیلئے ’’صَدائے مَدینہ‘‘ لگانااُن کامعمول تھا۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسُنّتوں  بھرے اجتماع میں  پابندی سے شرکت کرتے ۔ ان کا خاص عمل جو ہم مَحسوس کرتے تھے وہ کثرت کے ساتھ دُرُود شریف پڑھناتھا۔ 2004؁ء میں  وہ شدید بیمار ہوگئے یہاں  تک کہ چارپائی سے جا لگے ۔ اس حالت میں  بھی چارپائی کے قریب ہی مُصَلّٰی بچھا کر نماز ادا کیا کرتے۔ جب حالت زِیادہ بگڑی تو ا نہیں   ہسپتال میں  داخل کروادیاگیا۔ ایک بار