Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
199 - 645
جَنَّت میں  ٹھکانا 
	حضرت سَیِّدُنااَنس بن مالِک رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مَروِی ہے کہنبیِّ رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنَّت نشان ہے: ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ اَلْفَ مَرَّۃٍ، جو شخص ایک دن میں  ہزار مرتبہ مجھ پر دُرُود شریف پڑھ لیا کرے ،’’لَمْ یَمُتْ حَتّٰی یَریٰ مَقْعَدَہُ  فِی الْجَنَّۃِ،وہ اس وقت تک  نہیں   مرے گا جب تک جنَّت میں  اپنا ٹھکانانہ دیکھ لے۔‘‘ (الترغیب والترہیب ،کتاب الذکر والدعاء ،الترغیب فی اکثار الصلاۃ علی النبی، ۲/ ۳۲۶، حدیث:۲۵۹۱)
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جنَّت ایک مَکان ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے اِیمان والوں  کے لئے بنایا ہے اس میں  وہ نعمتیں  مُہیَّا کی ہیں  جن کو نہ آنکھوں  نے دیکھا ، نہ کانوں  نے سنا ،نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔ اس میں  قسم قسم کے جَواہر کے مَحل ہیں  ،ایسے صاف شَفاف کہ اندر کاحصّہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے ،جنَّت میں  چار دریا ہیں  ،ایک پانی کا ،دوسرا دُودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر ان سے نہریں  نکل کر ہر ایک کے مکان میں  جاری ہیں  ۔ جنّتیوں  کوجنَّت میں  ہر قسم کے لَذیذ سے لَذیذ کھانے ملیں  گے ،جو چاہیں  گے فوراً اُن کے سامنے موجود ہوگا اگر کسی پرند کو دیکھ کر اس کا گوشت کھانے کو جِی ہو تو اسی وقت بُھنا ہوا اس کے پاس آجائے گا ۔        (بہارشریعت ،ص۱۵۲تا۱۵۶ملتقطاً)