حوضِ کوثر پر دیکھ لینا(بس) میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ تمہیں ضَرور مل جاؤں گا۔‘‘
(ترمذی ،کتاب صفۃالقیامۃ،باب ماجاء فی شان الصراط ،۴ /۱۹۵،حدیث:۲۴۴۱)
اُستاذِ زَمن شہنشاہِ سُخن مَولانا حسن رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن اپنے نعتیہ دِیوان ’’ذَوقِ نعت‘‘میں اس مضمون کی مَنْظرکَشی کچھ یُوں فرماتے ہیں :
زبان سُوکھی دِکھا کر کوئی لبِ کوثر جنابِ پاک کے قَدموں پہ گر گیا ہوگا
کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر کوئی صِراط پر ان کو پُکارتا ہوگا
ہزار جان فِدا نرم نرم پاؤں سے پُکار سُن کے اَسیروں کی دوڑتا ہوگا (ذوقِ نعت،ص۳۶)
غرض ہر جگہ اُ نہیں کی دُوہائی ، ہرشخص اُ نہیں کو پُکارتا، اُ نہیں سے فریاد کرتا ہے اور ان کے سِوا کس کو پکارے …؟!کہ ہر ایک تو اپنی فِکر میں ہے ، دوسروں کو کیا پوچھے ،صرف ایک یہی ہیں ،ج نہیں اپنی کچھ فِکر نہیں اور تمام عالَم کا بار اِن کے ذِمّے :
کوئی کہے گا دُہائی ہے یارسولَ اللّٰہ! تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا
کسی کو لے کے چلیں گے فِرِشتے سوئیجَحِیْم وہ ان کا راستہ پِھرپِھر کے دیکھتا ہوگا
عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے قسم خُدا کی یہی حال آپ کا ہوگا (ذوقِ نعت،ص۳۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد