تشریف لائے اورایک سُتُون کے پاس جَلوہ اَفروزہوئے حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہبھی آپ کے پاس بیٹھ گئے ،(اتنے میں ) حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِی اﷲ تَعالٰی عَنْہ اذان دینے لگے ، جب اُنہوں نے ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداًرَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ کہا تو اس وَقت سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہ نے اپنے دونوں اَنگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی دونوں آنکھوں پر رکھ کر ’’ قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ ،یعنی یارسُولَ اللّٰہ !آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں ‘‘ کہا ،پھر جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہ اذان سے فارغ ہوئے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اے ابُوبکر جو شخص تمہاری طرح کرے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے اگلے پچھلے، اِرادی غیر اِرادی تمام گُناہوں کو بَخْش دے گا۔‘‘(روح البیان،پ۲۲،الاحزاب،تحت الآیۃ:۵۶،۷ /۲۲۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی مَحَبَّت عطافرما، آپ عَلَیْہِ السَّلام کی ذاتِ بابرکت پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھنے کی توفیق عطافرما ،آپ کا نامِ پاک سُن کر فرطِ مَحَبَّت سے انگھوٹھے چُومنے کی سَعادت نصیب فرما اور ہماری بے حساب بَخشِش و مَغْفِرت فرما۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭…٭…٭…٭