حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو اس کی نَمازِجنازہ پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا اور کرم بالائے کرم یہ کہ سترّ حُوروں کے ساتھ اس کا نِکاح بھی کر دیا ۔یہ تو بنی اسرائیل کے ایک شخص پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم تھاتو بھلا اس مُسلمان کا کیا عالم ہوگا جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا اُ مَّتِی ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ پاک کا اَدب واِحتِرام کر کے اس کوچُوم کر اپنی آنکھوں سے لگاکر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودوسَلام بھیجے گا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمت سے قَوِی اُمید ہے کہ وہ اس سے راضی ہو کر اس کو بھی اپنے رَحم وکرم سے نوازے گا ۔
اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نام مبارک ’’محمد‘‘ کو چُومنا جائز اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا باعث ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامِ پاک سن کراپنے اَنگوٹھوں کو چُومنا بھی جائزاور باعثِ بَرَکت اور سُنَّتِ صِدِّیق اکبر رَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ ہے۔ چُنانچہ
سُنَّتِ صِدِّیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
حضرتِ سیِّدُناعلامہ شیخ اِسمٰعِیل حَقِّی علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ القَوِیاپنی مایہ ناز تفسیر رُوْحُ الْبَیَان میں نَقل فرماتے ہیں : ’’ایک مرتبہ محبوبِ ربِّ کائنات، شَہَنْشاہ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجدِنَبَوِی شریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام میں