طرف وَحْی فرمائی کہ یہ ایسا ہی بَد کردار تھا ’’اِلَّااَنَّہُ کَانَ کُلَّمَانَشَرَالتَّوْرَاۃَ،مگر اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی تَورات شریف پڑھنے کے لئے کھولتا‘‘ ’’وَنَظَرَاِلٰی اِسْمِ مُحَمَّدٍ‘‘ اورمحمد(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اسمِ گرامی کی طرف دیکھتا ‘‘’’قَبَّلَہُ وَوَضَعَہُ عَلٰی عَیْنَیْہِ وَصَلّٰی عَلَیْہ،تو اس کو چُوم کر اپنی آنکھوں سے لگا دیتا اور ان پر دُرُود پڑھتا ‘‘ ’’فَشَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ وَغَفَرْتُ ذُنُوْبَہُ‘‘پس میں نے اس کے اس عَمل کی قَدر کی اس کے گُناہوں کو مُعاف فرمادیا ’’وَزَوَّجْتُہُ سَبْعِیْنَ حُوَرَاءَ‘‘ اور میں نے اس کا نکاح سترّحُوروں کے ساتھ کر دیا۔ (حِلیۃ الاولیاء،وہب بن منبہ،۴/۴۵،حدیث:۴۶۹۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ اس رِوایت نے تو اَہلِ اِیمان کے دل ودماغ کو مُعَطَّر ومُعَنْبَرکردیا کہ بنی اسرائیل کا ایسا شخص جس نے اپنی زِندگی کے دوسو سال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں گزارے ،فِسْق وفُجور کرتا رہا، گُناہوں کا بازار گرم رکھا لیکن اس کی یہ عادت تھی کہ جب کبھی وہ تَورات شریف کھولتا تو اس میں ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کانامِ نامی اسمِ گرامی دیکھتا توفَرطِ مَحَبَّتسے اس کو چُوم لیتا اور اپنی آنکھوں سے لگاتا اور دُرُود شریف پڑھتا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس کے دوسو سال کے گُنا ہوں کومُعاف فرمادیا اور اپنے جلیلُ القَدر پیغمبر