Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
190 - 645
کے سبب ہماری مَغْفِرت فرمادے۔اس ضِمن میں  ایک روایت سُنئے اور اپنا اِیمان تازہ کیجئے ۔ چُنانچہ 
حُضُور کی تَعْظِیم بَخْشِش 
کا سبب بن گئی
حضرتِ سَیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں  ایک ایسا شخص تھا جس نے اپنی زِندگی کے دو سو سال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی نافرمانی میں  گزارے اسی نافرمانی کے عالَم میں  اس کی موت واقع ہو گئی بنی اسرائیل نے اس کے مُردہ جسم کو ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ کرگَندَگی کے ڈھیر پر پھینک دیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نبی حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ اس کو وہاں  سے اُٹھا کر اس کی تَجْہِیْز وتَکْفِیْنکر کے اس کی نَمازِجنازہ پڑھو ۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامنے لوگوں  سے اس کے مُتعلِّق پوچھا تو اُنہوں  نے اس کے بَد کردار ہونے کی گواہی دی ، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  عرض کی:’’یارَبّ عَزَّوَجَلَّ  !بنی اسرائیل تو اس کے بَدکردار ہونے کی گواہی دے رہے ہیں  کہ اس نے اپنی زِندگی کے دو سو سال تیری نافرمانی میں  گزارے ہیں  ؟‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی