Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
189 - 645
حضرتِ سَیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عباس رَضِی اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے رِوایت ہے : لَا اُذْکَرُ فِیْ مَکَانٍ اِلَّا ذُکِرْتَ مَعِیَ یَامُحَمَّدُ ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے فرمایا: اے محمد! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)جہاں  میر اذِکر ہو گا وہاں  تیرا ذِکر بھی میرے ذِکر کے ساتھ ہوگا ۔  فَمَنْ ذَکَرَنِیْ وَلَمْ یَذْکُرْکَ، جس نے میرا ذِکر کیا اور تمہارا ذِکر نہ کیا ،لَیْسَ لَہُ فِی الْجَنَّۃِ نَصِیْبٌ ‘‘تو جنَّت میں  اس کا کوئی حصّہ  نہیں   ہوگا۔ (در منثور،پ۳۰،الکوثر،تحت الآیۃ:۳،۸/ ۶۴۷)
ذکرِ خُدا جو اُن سے جُدا چاہو نَجْدِیو !
واللّٰہ! ذکرِ حق  نہیں   کُنْجِی سَقَر کی ہے 	
 (حدائقِ بخشش،ص۲۰۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِن رِوایات سے سرکارِ عالی وَقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکر کی اَہَمِّیَّت کا اندازہ ہوتا ہے لہٰذا جب بھی پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکرِ خیر کیا جائے توآپ پر دُرُودوسَلام پڑھا جائے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامِ نامی اسمِ گرامی سُن کرعِشق ومَستی میں  جُھوم کر اپنے اَنگوٹھوں  کوچُوم کر آنکھوں  سے لگا لینا چاہئے ، ہو سکتا ہے کہ ہماری یہی ادا اللّٰہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں  مَقبول ہو جائے اور اللّٰہ  تعالیٰ ہم سے راضی ہو جا ئے اور اپنے پیارے مَحبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَدب واِحتِرام اورتَعْظِیم وتَوقِیر اور ان کی مَحَبَّت