اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا اپنے پیارے حبیب پر اِتنا کَرم ہے کہ اپنے پیارے مَحبوب کے ذِکر کوخُود اپناذِکر قرار دیتا ہے جیسا کہ حدیثِ قُدسی میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ’’اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیَ،اے مَحبوب !جب بھی میرا ذِکر ہوگا میرے ساتھ ساتھ تیرا بھی ذِکر ہوگا۔اِبنِ عطا اس حدیث کا مَطلب ان اَلفاظ میں بیان کرتے ہیں : ’’جَعَلْتُ تَمَامَ الْاِیْمَانِ بِذِکْرِکَ مَعِیَ،یعنی میں نے ایمان کا مُکمل ہونا اس بات پر مَوقُوف کر دیا ہے کہ میرے ذِ کر کے ساتھ تمہا را ذِکر بھی ہوگا ۔‘‘ابن عطا مزید فرماتے ہیں : ’’جَعَلْتُکَ ذِکْراً مِنْ ذِکْرِیْ،میں نے آپ کے ذِکر کو اپنا ذِکر ٹھہرا دیا ہے۔‘‘فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ،توجس نے آپ کا ذِکر کیا اس نے میر اذِکر کیا۔‘‘(الشفابتعریف حقوق المصطفیٰ،ص۲۰)
حضرتِ سَیِّدُناابُو سعیدخُدْری رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ سرکارِ مدینۂ مُنوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میرے پاس جبرائیل عَلَیْہِ السّلام آئے اور کہا، اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ تَدْرِیْ کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ؟ ‘‘آپ کا رَبّ فرماتا ہے :کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذِکر کس طرح بُلَنْد کیاہے ’’قُلْتُ اَللّٰہُ اَعْلَمُ‘‘ میں نے کہا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خُوب جا نتا ہے۔ ’’قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِی، فرمایا: جب میرا ذِکر ہو گا تو میرے ذِکر کے ساتھ تمہارا ذِکر بھی ہو گا۔‘‘(درمنثور،پ۳۰،الانشراح ،تحت الآیۃ:۴،۸/۵۴۹)
وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تیرا ذِکر ہے اُونچا تیرا
(حدائقِ بخشش،ص۲۸)