جب نیک بندوں کا ذِکر سببِ نُزُولِ رحمت ہے تو پھر اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ذِکر کا کیا عالم ہوگا اور پھر شاہِ خَیرُالْاَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکرِ خَیر کے تو کیا ہی کہنے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکرِ خَیرکے وَقت یقینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمتوں کا نُزول ہو گا اور اس کی رَحمتوں کی چَھم اچَھم برسات ہوگی کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو سیِّدُالْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْ نہیں ۔
اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسُنّت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے مشہور ومعروف نعتیہ کلام ’’حَدَائِق بَخْشِش‘‘ میں کیا خُوب فرماتے ہیں :
خَلق سے اَولیاء،اَولیاء سے رُسُل اور رسولوں سے اَعلیٰ ہمارا نبی
ملک کونین میں انبیا تاجدار تاجداروں کا آقا ہمَارا نبی
(حدائقِ بخشش،ص۱۳۸)
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حد دَرَجہمَحَبَّت ہے اور کیوں نہ ہوکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت کمالِ ایمان کے لئے شَرط ہے اس لئے ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کثرت سے ذِکرِ خَیر کرتے ہیں ،دُرُودِ پاک پڑھتے ہیں کیونکہ انسان کو جس سے مَحَبَّت ہوتی ہے اس کا ذِکر کثرت سے کرتا ہے ۔ چُنانچہ