کہاں بسر ہو رہا ہے، زَہے مُقدَّر! زِندگی کی ہر ہر ساعت مُفید کاموں ہی میں صرف ہو ۔ بروز قِیامت اَوقات کوفُضول باتو ں ،خُوش گپّیوں میں گزرا ہوا پاکر کہیں کَفِّ اَفسوس مَلتے نہ رہ جائیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے لمحاتِ زِندگی کی قَدر کرتے ہوئے ا نہیں فُضُول باتوں اورفُضُول کاموں میں صرف کرنے کے بجائے ذِکرو دُرُوداور دیگر نیک کاموں میں گزاریں !
حضرتِ سیِّدُنا اِمام بَیہقِی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوی شُعَبُ الایمان میں نَقل کرتے ہیں تاجدارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’روزانہ صُبح جب سورج طُلوع ہوتا ہے تو اُس وَقت ’’دن‘‘یہ اعلان کرتا ہے اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔ ‘‘(شعب الایمان،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان، ۳/۳۷۸،حدیث:۳۸۴۰ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!فُضُولیات میں اپنا قِیمتی وَقت ضائع کرنے سے جان چھڑانے اور نیکیوں پر اِسْتِقامت پانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَہکے مَہکے مُشکبارمَدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے اس کی بَرکت سے نہ صِرف وَقت کی قَدر کا احساس دل میں اُجاگر ہوگا بلکہ فُضُول گوئی سے دامن تَہی کرتے ہوئے ذِکر و دُرُود سے زبان تر رکھنے کا ذِہن بھی بنے گا اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ چُنانچہ اس ضمن میں ایک مَدنی بہار سنئے اورجُھوم اُٹھیے ۔