خزاں کا سخت پہرا ہے غموں کا گُھپ اندھیرا ہے ذراسا مسکرا دو گے تو دل میں روشنی ہوگی
اگر وہ چاند سے چہرے کو چمکاتے ہوئے آئے غموں کی شام بھی صبحِ بہاراں بن گئی ہوگی
تڑپ کر غم کے مارو تم پکارو یا رسولَ اللّٰہ تمہاری ہر مُصیبت دیکھنا دَم میں ٹَلی ہوگی (وسائل بخشش،ص۲۷۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تومَحض دُنیا کی معمولی سی تکلیف تھی دُرُودِ پاک کی بدولت تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اُخروی پریشانیاں بھی حل ہوجائیں گی جیساکہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ اَنْجٰکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ اَہْوَالِہَا وَ مَوَاطِنِہَا اَکْثَرُکُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً فِیْ دَارِ الدُّنْیَا ‘‘ اے لوگوں !بے شک تم میں سے قِیامت کے دن اس کی دَہشتوں اور دُشوار گزار گھاٹیوں سے جلد نَجات پانے والا وہ شخص ہوگا جس نے دُنیا میں مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھا ہوگا۔ (جمعُ الجوامع، حرف الیاء، ۹/ ۱۲۹،حدیث:۲۷۶۸۶ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینازِندگی کے اَیَّام چند گھنٹوں سے اور یہ چند گھنٹے چند لمحوں سے عِبارت ہیں ، زِندگی کا ہر سانس اَنمول ہیراہے ،کاش ! ایک ایک سانس کی قَدر نصیب ہو جائے کہ کہیں کوئی سانس بے فائدہ نہ گزر جائے اور کل بروز قِیامت زِندگی کا خزانہ نیکیوں سے خالی پاکر اَشکِ نَدامت نہ بہانے پڑ جائیں ! صدکروڑ کاش! ایک ایک لمحے کا حِساب کرنے کی عادت پڑ جائے کہ