والوں کی آواز مجھ تک پہنچے گی خواہ دُنیا کے کسی بھی خطہ سے وہ مجھ پر دُرُود پاک پڑھیں ۔‘‘) ’’اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَاءِ‘‘بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے زَمین پر حَرام کر دیا ہے کہ وہ اَنبیا کے جسموں کو کھائے۔ ‘‘ (جلاء الافہام ،ص۵۶)
دُور و نزدیک سے سننے والے وہ کان
کان لعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام (حدائقِ بخشش،ص۳۰۰)
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!آج بھی ہمارے غیب دان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کے حال سے باخَبر ہیں بلکہ بارہااپنے چاہنے والوں کی خَیر خواہی فرماتے ہیں اور ان کے خَواب میں آکر دُکھ دَرد کا مَداوا بھی کرتے ہیں ۔ چُنانچِہ
سَعَادَۃُ الدَّارَیْن میں ہے :’’ایک بُزُرگ فرماتے ہیں : میں حمام میں گر گیا، میرے ہاتھ پر سخت چوٹ آئی جس کی وجہ سے ہاتھ میں کافی سُوجن آگئی ، میں بڑی تکلیف مَحسوس کررہا تھا،رات جب سویا تو کیا دیکھتاہوں کہ خَواب میں جنابِ رسالتِ مآب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جلوۂ عالَمِ تاب نظر آیا، لَب ہائے مُبارکہ کو جُنبِش ہوئی رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اورمیٹھے بول کچھ یُوں ترتیب پائے: ’’بیٹا! تمہارے دُرُود نے مجھے مُتَوَجِّہ کیا۔‘‘صُبح اُٹھا تو مُصطَفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بَرَکت سے دَرد تو کافور ہو ہی چکاتھاساتھ ہی ساتھ وَرْم (یعنی سُوجن) کا نام و نشان بھی مِٹ چُکا تھا ۔ ‘‘ (سعادۃ الدارین،الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات فی فضل الصلاہ …الخ، ص۱۴۰)