وہی رَبّ ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا
ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا (حدائقِ بخشش، ص ۳۶۳)
مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمۃُ الحنَّان مزید اِرشاد فرماتے ہیں : ’’اِس آیتِ مُقدَّسہ میں مُسلمانوں کوخبردار فرمادیا گیا کہ اے دُرُود و سلام پڑھنے والو! ہر گز ہر گز یہ گُمان بھی نہ کرنا کہ ہمارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہماری رَحمتیں تُمہارے مانگنے پر مَوقُوف ہیں اور ہمارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتُمہارے دُرُود و سلام کے مُحتاج ہیں ۔ تم دُرُود پڑھو یا نہ پڑھو،اِن پر ہماری رَحمتیں برابر برستی ہی رہتی ہیں ۔تُمہاری پیدائش اور تُمہارا دُرُود و سلام پڑھنا تو اب ہوا۔ پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر رَحمتوں کی برسات تو جب سے ہے جب کہ ’’جب‘‘ اور ’’کب‘‘ بھی نہ بنا تھا۔ ’’جہاں ‘‘ ’’وہاں ‘‘ ’’کہاں ‘‘ سے بھی پہلے اِن پر رَحمتیں ہی رَحمتیں ہیں ۔ تم سے دُرُود و سلام پڑھوانا یعنی پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے دُعائے رَحمت منگوانا تُمہارے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے تم دُرُود و سلام پڑھو گے تو اِس میں تُمہیں کثیر اَجر و ثواب ملے گا۔ ‘‘(شان حبیب الرحمن،ص۱۸۴ملخصاً )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد