کچھ لوگ آئیں گے ج نہیں میں کثرتِ دُرُود کے سبب پہچان لوں گا۔‘‘(القول البدیع،الباب‚الثانی فی ثواب الصلاۃ …الخ،ص ۲۶۴)
حوضِ کوثر کی شان
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!حوضِ کوثر کی بھی کیا شان ہے! چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 176 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بِہِشت کی کُنجیاں ‘‘ صَفْحَہ15تا16پر ہے :جنَّت میں شیریں (یعنی میٹھے) پانی، شَہد،دُودھ اور شراب کی نہریں بہتی ہیں ۔ ( ترمذی ، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء فی صفۃ انہار الجنۃ، ۴/۲۵۷،حدیث :۲۵۸۰ ) جب جنّتی پانی کی نَہَر میں سے پئیں گے تو ا نہیں ایسی حَیات ملے گی کہ کبھی موت نہ آئے گی اور جب دُودھ کی نَہَرمیں سے نوش کریں گے تو ان کے بدن میں ایسی فَربہی پیدا ہو گی کہ پھر کبھی لاغر(یعنی کمزور)نہ ہوں گے اور جب شہد کی نہر میں سے پی لیں گے تو ا نہیں ایسی صِحَّت وتَندرستی مل جائے گی کہ پھر کبھی وہ بیمار نہ ہوں گے اور جب شراب کی نہر میں سے پئیں گے تو ا نہیں ایسا نَشاط اور خُوشی کا سُرورحاصِل ہو گا کہ پھر کبھی وہ غمگین نہ ہوں گے۔ یہ چاروں نَہریں ایک حوض میں گر رہی ہیں جس کا نام اندر حوضِ کوثر ہے یِہی حوض، حُضُورِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ حوضِ کوثر ہے جو ابھی جنَّتکے ہے لیکن قِیامت کے دن میدانِ محشر میں لایا جائے گا۔ جہاں