مَنقُول ہے: ’’جب ماں باپ کے نافرمان کو د فْن کیا جاتا ہے توقَبْراُسے دباتی ہے یہاں تک کہ اُس کی پسلیاں (ٹوٹ پھوٹ کر) ایک دوسرے میں پَیوَست ہو جاتی ہیں ۔‘‘ (الزواجر عن اقتراف الکبائر،کتاب النفقات علی الزوجات والاقارب …الخ،عقوق الوالدین اواحدہما…الخ،۲/ ۱۳۹)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ماں باپ کی اَہَمِّیَّتسمجھنے کی توفیق بخشے اور ان کا اَدب نصیب فرمائے ۔ آمین
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{3}دُرُود و سَلام کی کثرت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث پاک کے ضمن میں اَہَمِّیَّت واَفْضَلِیَّت کی حامل تیسری چیز’’دُرُودِ پاک کی کثرت ‘‘ہے کہ اس میں دُنیا و آخرت کی سَعادت ہی سَعادت ہے جبکہ دُرُودِ پاک پڑھنے میں سُسْتی باعثِ مَحرومی وہَلاکت ہے جیسا کے آپ نے حدیث پاک سَماعت فرمائی کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیََّ فَقَدْ شَقِی، جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھا وہ بھی شَقِی (یعنی بَد بَخت) ہے۔‘‘ لہٰذا ہمیں بھی دُرُودِپاک کی کثرت کرنی چاہئے اس کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری شَقاوَت دُور ہوگی اور ہمیں سَعادَتوں کی مِعْراج نصیب ہوگی۔