Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
172 - 645
والدین زِندہ ہیں  اُ نہیں   چاہیے کہ ان کا اَدب و اِحتِرام کریں  اور ان کی خِدمت کواپنے لئے باعثِ سَعادت سمجھیں  اور ہوسکے توروزانہ کم اَز کم ایک بار ان کی قَدم بوسی بھی کریں  ۔ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنَّت نشان ہے:’’اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّہَاتِ یعنی جنَّت ماؤوں  کے قدموں  کے نیچے ہے۔ (مسند الشّہاب،۱/۱۰۲، حدیث:۱۱۹) یعنی ان سے بھلائی کرناجنَّت میں  داخلے کا سبب ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد 3 صَفْحَہ 445 پر ہے:’’والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے، حدیث میں  ہے:جس نے اپنی والِدہ کا پاؤں  چُوما، تو ایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ(یعنی دَروازے) کو بوسہ دیا۔‘‘(درمختاروردالمحتار،کتاب الحظر والإباحۃ، فصل فی النظر والمس،۹ /۶۰۶) 
سرکارِمدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے: ’’ماں  باپ تیری دَوزخ اورجنَّت ہیں  ۔‘‘ (اِبن ماجہ،کتاب الادب،باب برالوالدین، ۴/۱۸۶، حدیث:۳۶۶۲) ایک اورمَقام پر ارشادفرمایا :’’ سب گُناہوں  کی سزااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو قِیامت کیلئے اُٹھا رکھتا ہے مگر ماں  باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی پہنچاتا ہے۔‘‘
اور تو اور مرنے کے بعد بھی ایسے شخص کا اَنجام بہت بُرا ہوتا ہے۔ چُنانچہ