وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۳)
جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور ا نہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تَعْظِیم کی بات کہنا ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ماں یا باپ کودُور سے آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو جایئے ، ان سے آنکھیں مِلاکر بات مت کیجئے،بُلائیں توفوراً لَبَّیک(یعنی حاضِرہُوں ) کہئے، تمیز کے ساتھ ’’آپ جناب‘‘ سے بات کیجئے،ان کی آواز پر ہرگز اپنی آواز بُلند نہ ہونے دیجئے۔خُوب ہمدردی اور پیار ومَحَبَّت سے ماں باپ کادِیدار کیجئے ، ماں باپ کی طرف بَنظر رَحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے ! جنابِ رَحمتِ عالمیان ،مکّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے :’’ جب اَولاد اپنے ماں باپ کی طرف رَحمت کی نظر کرے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کیلئے ہر نظر کے بدلے حجِ مَبْرُوْر(یعنی مقبول حج )کا ثواب لکھتا ہے ۔ صَحابۂ کرام عَلیْہمُ الرضوان نے عرض کی: اگرچِہ دن میں سومرتبہ نظر کرے۔!فرمایا : ’’نَعَمْ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ اَطْیَبُیعنی ’’ہاں ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسب سے بڑا ہے اورسب سے زِیادہ پاک ہے۔ ‘‘ (شعب الایمان باب‚فی برالوالدین، ۶/ ۱۸۶، حدیث: ۷۸۵۶ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ اِحسان و بھلائی اور ان کی تَعْظِیم وتَوقِیربہت ضَروری ہے توجن خُوش نصیب اسلامی بھائیوں کے