Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
169 - 645
جہنَّم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حَقْدار قرار دئیے جاچُکے ہوتے ہیں  ۔ (کنز العمال، کتاب الصوم، ۴/۲۲۳،الجزء الثامن،حدیث :۲۳۷۱۶) 
عِصیاں  سے کبھی ہم نے کَنارہ نہ کیا	پَر تُونے دِل آزُرْدَہ ہمارا نہ کِیا
ہم نے تَو جہنَّم کی بَہُت کی تجویز		لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کِیا
	حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللّٰہبن اَبی اَوْفٰی رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم،نُورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے   ارشاد فرمایا:’’روزہ دار کا سونا عِبادت اور اسکی خاموشی تَسْبِیْح کرنا اور اسکی دُعا قَبول او راسکا عَمل مَقبول ہوتا ہے۔‘‘(شعب الایمان،باب فی الصیام،۳/۴۱۵،حدیث:۳۹۳۸)
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اﷲ ُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  : ’’اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کواُمَّتِ مُحَمَّدِیہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرعَذاب کرنامَقْصُود ہوتا تَو ان کو رَمَضان اور سُورۂ قُلْ ھُوَ اللّٰہ شریف ہرگِز عِنایت نہ فرماتا ۔‘‘ (نزہۃ المجالِس،۱/۲۱۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو اُمَّتِ محمدیہ سے کس قَدر پیار ہے کہ اس نے بَخشِش و مَغْفِرت کے لئے ا نہیں   رَمَضَانُ الْمُبارَکعطا فرمایا اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اس ماہِ مُبارک کو پائے اور اس میں  نماز و روزہ کا اِہتِمام کرکے اپنی بَخشِش و مَغْفِرت نہ کروا سکے توواقعی وہ بہت بڑا بَدبَخت اوربَد