Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
168 - 645
ماہِ رَمَضانُ المُبارَک میں  عِبادت 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان میں  سے پہلی چیز’’ رَمَضانُ الْمُبارَک‘‘ ہے۔ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں  ماہِ رَمَضَان جیسی عَظیْم ُالشَّان نِعمت سے سَرفَراز فرمایا ۔ ماہِ رَمَضَان کے فَیضَان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے۔اِس مہینے میں  اَجْر و ثَوا ب بَہُت ہی بڑھ جاتا ہے اس ماہِ مُبارک کا ہردن اور ہر رات اپنے اندر بے شُمار بَرَکتیں  سمیٹے ہوئے ہے ۔چُنانچہ
اللّٰہ تعالیٰ کی عِنایتوں ، رَحمتوں  اور بَخشِشوں  کا تذکِرہ کرتے ہوئے ایک موقع پر سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار،شَہَنْشاہِ اَبرارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جب رَمَضان کی پہلی رات ہوتی ہے تَو اَللّٰہ تَعالٰیاپنی مَخلوق کی طرف نَظَر فرماتا ہے اور جب اَللّٰہ تَعَالٰی کسِی بندے کی طرف نظر فرمائے تو اُسے کبھی عذاب نہ دے گا ۔ اور ہر رَوز دس لاکھ (گُنہگاروں ) کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے اور جب اُنتیسویں  رات ہوتی ہے تَو مہینے بھر میں  جتنے آزاد کیے اُن کے مَجْمُوعَہ کے برابر اُس ایک رات میں  آزاد فرماتا ہے ۔(کنز العمال،کتاب الصوم،الباب‚ الاول فی صوم الفرض،۴،/۲۱۹،الجزء الثامن، حدیث:۲۳۷۰۲) 
نِیز  شبِ جُمُعہاور روزِجُمُعہ(یعنی جُمعرات کو غُروبِ آفتاب سے لے کر جُمُعہکو غُروبِ آفتاب تک )کی ہر ہر گھڑی میں  ایسے دس دس لاکھ گُنہگاروں  کو