بیان نمبر:16
بدنصیب کون...؟
حضرت ِ سَیِّدُنا جابِر بن عبدُاللّٰہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے: ’’مَنْ اَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ یَصُمْہُ فَقَدْ شَقِیَیعنی جس نے ماہِ رَمَضان کو پایا اورا سکے روزے نہ رکھے وہ شخص شَقِی (یعنی بَد بَخت) ہے۔‘‘ ’’ وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یَبِرَّہُ فَقَدْ شَقِیَیعنی جس نے اپنے والِدین یا کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ اچّھا سُلوک نہ کیا وہ بھی شَقِی (یعنی بَدبَخت) ہے ۔‘‘ ’’ وَمَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَقَدْ شَقِیَ اور جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی شقِی (یعنی بَدبَخت) ہے۔‘‘(مجمعُ الزوائد ،کتاب الصیام ،باب فیمن ادرک شہررمضان…الخ،۳/۳۴۰، حدیث:۴۷۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اس حدیثِ پاک میں تین قسم کے اَشخاص کی بد بختی وشَقاوَت کا ذِکر کیا گیا ہے جس سے ان تین چیزوں کی اَہَمِّیَّت و اَفْضَلِیَّت کا بَخُوبی اَندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ (1) ماہِ رَمَضانُ المُبارَکمیں عِبادت کی کثرت۔(2) والِدین کی تابعداری اور ان کی خِدْمت۔(3)حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودو سلام کی کثرت۔